عظیم فرانسیسی فلاسفر، ڈرامہ نگار، نقاد، صحافی اور سیاسی مدبر ژاں پال سارتر کو بیسویں صدی کی ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے سارتر کی ادبی خدمات کے پیش نظر 1964ء میں انہیں نوبل انعام کا حق دار گردانا گیا مگر انہوں نے یہ انعام وصول کرنے سے معذرت کر لی۔ وہ 21 جون 1905ء کو پیرس میں تولد ہوئے۔ ان کے والدین پروٹسٹنٹ عیسائی تھے مگر سارتر نے شعور کی منزل پر قدم رکھنے کے بعد مذہب سے بے گانگی اور الحاد کی روش پر چلنا شروع کیا۔ انہوں نے باقاعدہ شادی نہیں کی مگر اپنی عمر بھر کی ساتھی سیمیون ڈی بیودار کی رفاقت میں زندگی کے پچاس برس گزار دیے۔ ان کی اپنی کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ مگر انہوں نے اپنی مددگار، نائب مدیرہ مس آرلیت کو بیٹی کی حیثیت سے اپنا لیا تھا۔ زندگی کے ابتدائی دور میں وہ دو برس (1929-31) تک فرانس کی فوج میں بطور سارجنٹ خدمات سر انجام دیتے رہے۔ فلسفے میں اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ فرانس کے متفرق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فلسفہ کے پروفیسر کی حیثیت سے پڑھاتے رہے۔ ١٩٣٩ ء میں وہ دوسری بار فوج میں شامل ہوئے اور اس خفیہ مزاحمتی جنگ میں شریک رہے جس کا مقصد فاشزم اور نازی جارحیت کا مقابلہ کرنا تھا۔ سارتر کی تصانیف کو نئے خیالات ، حق گوئی اور فلسفۂ وجودیت کے فنکارانہ اظہار کی بدولت عالمگیر شہرت نصیب ہوئی۔ وہ فلسفی کا دماغ اور شاعر کا دل رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت فلسفے اور ادب عالیہ کے خوبصورت امتزاج کی علامت تھی۔ پس ماندہ قوموں کے لیے ان کی جدوجہد بھی بیسویں صدی کی تاریخ کا حصہ ہے۔ دنیا انھیں الجزائر کی تحریک آزادی کی واشگاف حمایت کے حوالے سے بھی ہمیشہ یاد رکھے گی۔ سارتر کو فرانس کا ضمیر کہا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ جب ان کے خیالات و افکار کی بنا پر صدر ڈیگال کے مشیروں نے انھیں مشورہ دیا کہ سارتر کو گرفتار کر لیا جائے توصدر ڈیگال نے یہ کہتے ہوئے ان کی تجویز رد کر دی:
’’سارتر تو فرانس ہے۔ میں فرانس کو کیسے گرفتار کر سکتا ہوں؟‘‘
زیر نظر کہانی ’’دیوار‘‘ سارتر کے فن کی نمائندہ تحریر ہے۔ اس کا شمار دنیا کی چند اعلیٰ ترین کہانیوں میں ہوتا ہے۔ سارتر اس کہانی میں زندگی کا یہ ہولناک رخ دکھانے میں کامیاب رہے کہ ہر ذی نفس ذاتی سطح پر بے یقینی کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ وہ ایسی کائنات میں زندہ ہے جو کسی ضابطۂ حیا ت کی پابند نہیں۔ فرد سے کائنا کی لا تعلقی کا احساس ’’دیوار‘‘ کے مرکزی کردار پر اچانک اپنے عقائد و نظریات کی بے وقعتی واضح کر تا ہے تو اسے ادراک ہوتا ہے کہ وہ اصول و نظریات جنھیں وہ اتنا مقدس اور عزیزسمجھتا تھا، دراصل کتنے بے حقیقت ہیں۔ آخری سعی کے طور پر وہ اپنی انا سلامت رکھنا چاہتا ہے مگر اتفاقات زمانہ میں فرد کی انا بھی بے وقعت ثابت ہوتی ہے۔ یہ انسانی بے بسی کی انتہا ہے جس پر وہ ہنستا ہے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اس لازوال افسانے کے خالق ژاں پال سارتر اس فانی دنیا سے ١٥ اپریل ١٩٨٠ء کے دن چلے گئے۔